کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 177
لِغَیْرِيْ۔ فَلَا تَعْبُدُوْا الْأَوْثَانَ الَّتِيْ تَزْعُمُوْنَ أَنَّہَا تُقَرِّبُکُمْ مِّنِّيْ زُلْفٰی، فَإِنَّہَا لَا تَنْفَعُکُمْ عِنْدِيْ، وَ لَا تُغْنِيْ عَنْکُمْ شَیْئًا۔ وَ لَا یَشْفَعُ عِنْدِيْٓ أَحَدٌ لِأَحَدٍ إِلَّا بِتَخْلِیَتِيْٓ إِیَّاہُ، وَ الشَّفَاعَۃُ لِمَنْ یَّشْفَعُ لَہٗ، مِنْ رُّسُلِيْ وَ أَوْلِیَآئِيْ وَ أَہْلِ طَاعَتِيْ۔‘‘[1] ’’اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے فرمایا، کیونکہ مشرکوں نے کہا: ’’ہم ان بتوں کی صرف اس لیے پرستش کرتے ہیں، تاکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔‘‘ تو (ان کا رد کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے، بشمول آسمانوں اور زمین، یہ سب کچھ صرف میری ملکیّت ہے، لہٰذا میرے علاوہ کسی کی عبادت کرنا درست نہیں۔ ان بتوں کی پوجا نہ کرو، کیونکہ جن کے بارے میں تمہارا گمان ہے، کہ وہ تمہیں میرے قریب کرتے ہیں، وہ میرے ہاں تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچائیں گے اور نہ ہی وہ تمہارے کچھ کام آئیں گے۔ میرے حضور تو صرف وہ ہی،کسی ایک کے لیے، شفاعت کرے گا، جسے میں اجازت دوں گا۔ (روزِ قیامت) شفاعت تو ان لوگوں کے لیے ہے، جن کے لیے میرے رسول، میرے اولیاء اور میرے اطاعت گزار لوگ شفاعت کریں گے۔‘‘ ہ: جملے کے دیگر تین فوائد: ۱: اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور کبریائی کا بیان: [1] تفسیر الطبري ۵/۳۹۵۔