کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 172
اللہ تعالیٰ کی اجازت ہی سے کریں گے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائیں گے، تو وہ کہیں گے: ’’لَوِ اسْتَشَفَعْنَا عَلٰی رَبِّنَا حَتّٰی یُرِیْحَنَا مِنْ مَکَانِنَا۔‘‘ ’’اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حضور کسی سے شفاعت کروائیں، تاکہ ہمارے اس ٹھہرنے (کی مشقّت) سے وہ ہمیں راحت دے دیں۔‘‘[1] (پھر) لوگ آدم۔ علیہ السلام ۔ کے پاس حاضر ہوکر کہیں گے: ’’أَنْتَ الَّذِيْ خَلَقَکَ اللّٰه بِیَدِہٖ، وَنَفَخَ فِیْکَ مِنْ رُّوْحِہٖ، وَأَمَرَ الْمَلَآئِکَۃَ، فَسَجَدُوْا لَکَ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا۔‘‘ ’’آپ وہ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور آپ میں اپنی روح سے پھونکا اور فرشتوں کو حکم دیا، تو انہوں نے آپ کے لیے سجدہ کیا، سو آپ ہمارے رب کے حضور ہمارے لیے شفاعت کیجیے۔‘‘ تو وہ کہیں گے: ’’لَسْتُ ہُنَاکُمْ۔‘‘ ’’میں تمہارے لیے وہاں (کچھ بھی) نہیں۔‘‘ (یعنی دربارِ الٰہی میں [1] امام ابن حبان کی حضرت ابن مسعود رضی اللّٰه عنہ کے حوالے سے روایت کردہ حدیث میں ہے: ’’بلاشبہ روزِ قیامت آدمی کو پسینے نے لگام ڈال رکھی ہوگی، (یعنی پسینہ لگام کی مانند اس کے منہ میں ہوگا)، تو وہ شخص کہے گا: ’’اے میرے رب! (اس صورتِ حال سے) مجھے راحت دیجیے، اگرچہ دوزخ کی آگ کی طرف۔‘‘ (یعنی یہاں سے چھٹکارا حاصل ہوجائے، اگرچہ اس کے لیے آپ مجھے دوزخ کی آگ میں ڈال دیں۔‘‘ (منقول از: فتح الباري ۱۱/۴۳۳)