کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 171
[کوئی سفارش کرنے والا نہیں، مگر ان کی اجازت کے بعد۔ وہی اللہ تعالیٰ تمہارے رب ہیں، سو ان کی عبادت کرو۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟] ۲: ارشادِ تعالیٰ: {یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوْلًا}[1] [اس دن سفارش نفع نہیں دے گی، مگر جس کے لیے رحمان اجازت دیں اور جس کے لیے بات کرنا پسند فرمائیں۔] ۳: صرف یہی نہیں، بلکہ روزِ قیامت تو صورتِ حال یہ ہوگی، کہ فرشتے بشمول حضرت جبریل علیہم السلام دربارِ الٰہی میں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر گفتگو کرنے کی بھی جسارت نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: {یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا لاَّ یَتَکَلَّمُوْنَ اِِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا}[2] [جس دن روح (الامین یعنی حضرت جبریل) اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے۔ وہ بات نہیں کریں گے، سوائے اس کے، جسے رحمن اجازت دیں گے اور (جو) درست بات کہے گا۔] ۴: مزید برآں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر دی ہے، کہ روزِ قیامت حضراتِ انبیاء و رُسُل علیہم السلام میں سے کوئی بھی، اُن کے سوا دربارِ الٰہی میں شفاعت کے لیے آگے نہیں بڑھے گا۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شفاعت کرنے کا آغاز [1] سورۃ طٰہٰ / الآیۃ ۱۰۹۔ [2] سورۃ النبأ / الآیۃ ۳۸۔