کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 170
طراز ہیں: ’’ وَ[ذَا] مَزِیْدَۃٌ لِّلتَّأْکِیْدِ إِذْ لَیْسَ ثَمَّ مُشَارٌ إِلَیْہِ مُعَیَّنٌ، وَ الْعَرَبُ تَزِیْدُ [ذَا] لَمَّا تَدُلُّ عَلَیْہِ الْإِشَارَۃُ مِنْ وُّجُوْدٍ شَخْصٍ مُّعَیَّنٍ یَتَعَلَّقُ بِہٖ حُکْمُ الْاِسْتِفْہَامِ، حَتّٰیٓ إِذَا ظَہَرَ عَدْمُ وَجُوْدِہٖ کَانَ ذٰلِکَ أَدَلَّ عَلٰٓی أَنَّ لَیْسَ ثَمَّۃَ مُتَطَلِّعٌ یَّنْصَبُ نَفْسَہٗ لِادِّعَآئِ ہٰذَا الْحُکْمِ۔‘‘[1] ’’اور[ذَا] کا تاکید کی غرض سے اضافہ کیا گیا ہے، کیونکہ وہاں کوئی ایسا معین شخص نہیں، جس کی جانب اشارہ کیا گیا ہو۔ عرب استفہام کے متعلق معین شخص پر دلالت کی خاطر [ذَا] کا اضافہ کرتے ہیں۔ جب معین شخص کا نہ ہونا واضح ہوجائے، تو یہ اس بات پر بہت زیادہ دلالت کرتا ہے، کہ وہاں کوئی ایسا شخص بھی نہیں، جو اس حکم کے دعویٰ کا تصور بھی کرسکے۔‘‘ حاصلِ کلام یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کا شفاعت کرنا، تو بہت دور کی بات ہے، جملے میں موجود لفظ [ذَا] اس بات پر دلالت کرتا ہے، کہ ایسا کرنے کے دعویٰ کا بھی کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ ج: اذنِ الٰہی کے بغیر شفاعت کی نفی کے متعلق دیگر نصوص: قرآن و سنت میں یہ حقیقت متعدد مقامات پر واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ ذیل میں اس بارے میں تین آیات اور ایک حدیث ملاحظہ فرمائیے: ۱: ارشاد باری تعالیٰ: {مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْم بَعْدِ اِذْنِہٖ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ}[2] [1] تفسیر التحریر و التنویر ۳/۲۱۔ [2] سورۃ یونس ۔ علیہ السلام ۔ جزء من الآیۃ ۳۔