کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 167
آپ کہہ دیجیے: ’’کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو، جسے وہ نہ تو آسمانوں میں جانتے ہیں اور نہ زمین میں؟‘‘ وہ ان کے مشرکانہ اعمال سے پاک اور بہت بلند ہیں۔] {وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی اِِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ}[1] [اور وہ لوگ جنہوں نے ان (یعنی اللہ تعالیٰ) کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں (کہتے ہیں): ’’ہم تو صرف اس لیے ان کی عبادت کرتے ہیں، تاکہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے اچھی طرح قریب کردیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان ان باتوں کے بارے میں فیصلہ کریں گے، جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جھوٹے اور حق کے منکر کو ہدایت نہیں دیتے۔] اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُفَعَآئَ قُلْ اَوَلَوْ کَانُوْا لَا یَمْلِکُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَعْقِلُوْنَ۔ قُلْ للّٰه الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ثُمَّ اِِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ}[2] [یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا سفارشی بنالیے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے: ’’کیا اگرچہ وہ نہ کبھی کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں؟‘‘ آپ کہہ دیجیے: ’’ساری کی ساری شفاعت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے (یعنی ان کے اختیار میں) ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی انہی کے لیے [1] سورۃ الزمر / جزء من الآیۃ ۳۔ [2] سورۃ الزمر / الآیتان ۴۳۔۴۴۔