کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 166
(یعنی اس میں سوال) ہے اور اس کا معنیٰ ڈانٹ اور نفی ہے۔ مراد یہ ہے، کہ ان کے حضور کوئی بھی ان کے حکم کے بغیر شفاعت نہیں کرے گا۔‘‘ مشرکوں کا یہ گمان تھا، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن لوگوں یا چیزوں کی وہ عبادت کرتے ہیں، وہ دربارِ الٰہی میں ان کی شفاعت کریں گے۔ مذکورہ بالا جملے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کی ڈانٹ کے ساتھ تردید فرمائی۔ علامہ رازی آیت کے اسی حصے کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’وَذٰلِکَ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ کَانُوْا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ الْأَصْنَامَ تَشْفَعُ لَہُمْ۔‘‘[1] ’’اور وہ، کیونکہ یقینا مشرک لوگ گمان کیا کرتے تھے، کہ بلاشبہ بُت ان کے لیے شفاعت کریں گے۔‘‘ بتوں کے شفاعت کرنے کی تردید میں دیگر تین آیات: قرآن کریم کے متعدد مقامات پر مشرکوں کے اس فاسد گمان کی تردید کی گئی ہے۔ انہی میں سے تین درجِ ذیل ہیں: {وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمْ وَ لَا یَنْفَعُہُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ}[2] [اور وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، جو انہیں نہ نقصان پہنچاسکتی ہیں اور نہ نفع اور وہ کہتے ہیں: ’’وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں۔‘‘ [1] التفسیر الکبیر ۷/۹۔ [2] سورۃ یونس ۔ علیہ السلام ۔ / الآیۃ ۱۸۔