کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 163
ز: تین سوالات اور ان کے جواب: حضراتِ مفسرینj نے اس جملے کے بارے میں تین سوالات اٹھا کر خود ہی ان کا جواب دیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ۱: اللہ تعالیٰ نے [لَہٗ [مَنْ] فِی السَّمٰوٰتِ وَ [مَن] فِی الْاَرْضِ] کی بجائے [لَہٗ [مَا] فِی السَّمٰوٰتِ وَ [مَا] فِی الْاَرْضِ] کیوں فرمایا؟ اس حوالے سے قاضی ابن عطیہ اور علامہ قرطبی لکھتے ہیں: ’’وَ جَائَ تِ الْعِبَارَۃُ بِ [مَا]، وَ إِنْ کَانَ فِی الْجُمْلَۃِ مَنْ یَّعْقِلُ، مِنْ حَیْثُ الْمُرَادِ الْجُمْلَۃُ وَ الْمَوْجُوْدُ۔‘‘[1] ’’اگرچہ آسمانوں اور زمین میں عقلاء (بھی) موجود ہیں، لیکن تمام موجودات (عقلاء اور غیر عقلاء) کی اللہ تعالیٰ کے دائرۂ ملکیت میں شمولیت کو واضح کرنے کی خاطر [ما] استعمال کیا گیا ہے۔‘‘ ۲: [وَمَا فِیْ الْأَرْضِیْنَ] [یعنی اور جو کچھ زمینوں میں ہے] کی بجائے [وَمَا فِی الْاَرْضِ] [یعنی اور جو کچھ زمین میں ہے] کیوں کہا گیا؟ بالفاظِ دیگر [جمع] کی بجائے [مفرد] کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا؟ جواب: دو مفسرین کے بیان کردہ جواب: ا: حافظ ابن جوزی لکھتے ہیں: ’’قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَآئِ: ’’إِنَّمَا لَمْ یَقُلْ: (وَ الْأَرْضِیْنَ)، لِأَنَّہٗ قَدْ سَبَقَ ذِکْرُ الْجَمْعِ فِیْ [السَّمٰوَاتِ]، فَاسْتَغْنٰی بِذٰلِکَ عَنْ إِعَادَتِہٖ۔ وَ مِثْلُہُ: {وَ جَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَ النُّوْرَ }[2] وَ لَمْ یَقُلْ: [الْأَنْوَارَ]۔ [3] [1] تفسیر المحرّر الوجیز ۲/۲۷۶؛ وتفسیر القرطبي ۳/۲۷۳۔ [2] سورۃ الأنعام/ جزء من الآیۃ الأولی۔ [3] زاد المسیر ۱/۳۰۳۔