کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 162
ہوچکے ہیں، تو کہا: ’’ یَا أَبَا طَلْحَۃَ! أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوْا عَارِیَتَہُمْ أَہْلَ بَیْتٍ، فَطَلَبُوْا عَارِیَتَہُمْ، أَلَہُمْ أَنْ یَمْنَعُوْہُمْ؟‘‘ ’’ابوطلحہ! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے، کہ کچھ لوگوں نے کسی گھر والوں کو کوئی چیز عاریتًا دی ہو، پھر وہ ان سے چیز واپس طلب کریں، تو کیا انہیں اُسے (یعنی اس چیز کو) اُن سے روکنے کا حق ہے؟‘‘ انہوں (شوہر) نے کہا: ’’لَا‘‘۔’’نہیں۔‘‘ انہوں (بیوی) نے کہا: ’’فَاحْتَسِبْ ابْنَکَ۔‘‘ ’’اپنے بیٹے کی وفات پر صبر کرکے ثواب طلب کیجئے۔‘‘ انہوں (راوی) نے بیان کیا: ’’وہ خفا ہوئے اور کہا: ’’تم نے مجھے (پہلے) آگاہ نہیں کیا، یہاں تک میں نے ازدواجی تعلّقات سے خود کو آلودہ کرلیا۔‘‘ وہ (گھر سے) روانہ ہوئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض ہوکر صورتِ حال عرض کی، (تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمَا فِيْ غَابِرِ لَیْلَتِکُمَا۔‘‘[1] ’’اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ شب میں برکت فرمائیں۔‘‘ مذکورہ بالا آیات اور دونوں واقعات میں یہ حقیقت واضح ہے، کہ کائنات کی ہر چیز کے حقیقی مالک صرف اللہ عزوجل ہیں۔ جب وہ کسی سے کوئی چیز لیتے ہیں، تو وہ اپنی ہی، بطور جانشینی دی ہوئی چیز، آزمائش و ابتلاء کی خاطر، واپس لیتے ہیں۔ [1] صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أبي طلحۃ الأنصاري رضی اللّٰه عنہ ، جزء من رقم الحدیث ۱۰۷۔ (۲۱۴۴)، ۴/۱۹۰۹۔