کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 160
ان کی ملکیت ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ قرآن و سنت کی اس کے متعلق عظیم راہنمائی میں سے تین باتیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ َوالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۔ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَّ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ}[1] [اور یقینا ہم تمہیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجیے، وہ لوگ، کہ جب کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے، تو کہتے ہیں: ’’ہم بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور یقینا ہم ان ہی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔‘‘ وہ لوگ، کہ ان پر ہی ، ان کے رب کی طرف سے نوازشات اور عظیم رحمت ہے اور وہ لوگ ہی ہدایت یافتہ ہیں۔] ب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے کے عالَم نزع میں ہونے کی خبر سن کر، اُس کی والدہ، یعنی اپنی بیٹی کو یہی حقیقت یاد دلائی۔ امام بخاری نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا: [1] سورۃ البقرۃ / الآیات ۱۵۵۔۱۵۷۔