کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 159
امام ترمذی اور امام ابویعلیٰ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہٖ حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا أَفْنَاہُ، وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَآ أَبْلَاہُ، وَعَنْ مَالِہٖ مَنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہٗ، وَفِیْمَآ أَنْفَقَہٗ، وَمَا ذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ۔‘‘[1] ’’روزِ قیامت ابن آدم کے دونوں قدم پانچ (باتوں) کے متعلق سوال کیے جانے سے پہلے اپنے رب تعالیٰ کے حضور سے حرکت نہیں کریں گے: اس کی عمر کے متعلق، کہ اس نے کہاں گنوائی؟ اس کی جوانی کے بارے میں، کہ اُس نے اُسے کہاں برباد کیا؟ اُس کے مال کے متعلق، کہ اُس نے اُسے کہاں سے کمایا؟ اور اُسے کس جگہ خرچ کیا؟ اور جس چیز کا اُسے علم ہوا اُس پر کیا عمل کیا؟‘‘ ۵: بطورِ امانت دی ہوئی چیزوں کے واپس لیے جانے پر صبر کرنا: کائنات کی ہر چیز کے مالکِ حقیقی جب، جیسے اور جس قدر چاہیں، اپنی عطا کردہ چیزیں جانشینوں سے واپس لے لیں، تو کسی کو اس پر ناراض یا جزع فزع اور بے صبری کا مظاہرہ کرنے کا حق نہیں، کیونکہ وہ کسی کی چیز نہیں لیتے، بلکہ اپنی ہی عاریتاً دی ہوئی چیز واپس لیتے ہیں۔ اس لیے ہدایت یافتہ لوگ ایسے موقع پر نہ صرف یہ ، کہ واپس لی جانے والی چیز کے اللہ کریم کی ملکیت ہونے کا اقرار کرتے ہیں، بلکہ خود اپنے تئیں بھی [1] جامع الترمذي، أبواب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في شأن الحساب والقصاص، رقم الحدیث ۲۵۳۱، ۷/۸۴۔۸۵؛ ومسند أبي یعلٰی الموصلي، رقم الحدیث ۳۰۵۔ (۵۲۷۱)، ۹/۱۷۸۔ الفاظِ حدیث جامع الترمذي کے ہیں۔شیخ البانی نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۲/۲۸۹)۔ نیز دیکھئے: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۹۴۶، المجلد الثاني / ۶۶۶۔۶۶۷۔