کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 158
ان کی حیثیت اس میں جانشین کی ہے، مالک کی نہیں۔ ۴: عطا کردہ چیزوں کے استعمال میں احکامِ الٰہیہ کی پابندی: اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں میں جانشین بنائے گئے سب لوگ اس بات کے پابند ہیں، کہ اُن کے استعمال میں مالکِ حقیقی کے احکامات کی حرف بہ حرف پابندی کریں۔ انہیں نہ تو ممنوعہ کاموں یا چیزوں میں خرچ کریں اور نہ ہی جائز کاموں اور چیزوں میں استعمال کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو نظر انداز کریں۔ ممنوعہ جگہوں میں خرچ کرنا [تَبْذِیْر] قرار پاتا ہے۔ جائز مقامات میں راہِ اعتدال سے تجاوز کرتے ہوئے خرچ کرنا [إِسْرَاف] ٹھہرایا گیا ہے۔ ان دونوں سے اللہ تعالیٰ نے شدت کے ساتھ منع فرمایا۔ذیل میں اس حوالے سے دو نصوص ملاحظہ فرمایئے: [تبذیر] کے متعلق فرمایا: {وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ وَ کَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا}[1] [ترجمہ: اور مت بے جا خرچ کرو، اندھا دھند خرچ کرنا۔ بلاشبہ بے جا خرچ کرنے والیشیطان کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا ناشکرا ہے۔] [إسراف] کے بارے میں فرمایا: {کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْآ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ}[2] [ترجمہ: کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو۔بلاشبہ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتے۔] مزید برآں ہر شخص کو روزِ قیامت دربارِ الٰہی میں اس سوال کا جواب دینا ہوگا، کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال کو کیسے خرچ کیا؟ [1] سورۃ بني إسرائیل / الآیتان ۲۶۔۲۷۔ [2] سورۃ الأعراف / جزء من رقم الآیۃ ۳۱۔