کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 157
{وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ}[1] [اوراگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے رزق میں خوب کشادگی عطا فرما دیتے، تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے۔] ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: {کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی۔ أَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی}[2] [ہر گز نہیں، بے شک انسان سرکش بن جاتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے، کہ وہ دولت مند ہو گیا۔] آیت الکرسی میں کس قدر واضح اور دو ٹوک اندازمیں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے ، کہ کائنات کی ہر چیز کے اللہ عزوجل تنہا مالک ہیں، مخلوق میں سے کوئی بھی، کسی بھی چیز کا، حقیقی مالک نہیں۔ لہٰذا بندے کے پاس موجود مال و اسباب، جب میسر آنے سے پہلے اور بعد میں بھی، اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے، تو پھر اس کی طغیانی اور سرکشی کس وجہ سے ہے؟ ۳: ہر چیز کے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونے کو انفاق فی سبیل اللہ کے وقت یاد رکھنا: لوگوں کی ایک بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے تقاضوں پر تردّد اور پس و پیش کی کیفیت سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت سے نجات پانے کے لیے ایک مؤثر اور بہترین علاج اس اٹل، حتمی اور قطعی حقیقت کو پیش نظر رکھنا ہے، کہ جن اللہ کریم کا مال اس کے پاس ہے، انہی کے حکم کی تعمیل میں، ان ہی کی راہ میں خرچ کرنے کا تقاضا ہے ، اور جب صورتِ حال یہ ہے، تو پھر اس تذبذب کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے … جیسا کہ فائدہ نمبر ایک میں گزر چکا ہے[3]…مال خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح فرمایا، کہ لوگوں کے پاس موجود مال ، اللہ تعالیٰ کا مال ہے اور [1] سورۃ الشوریٰ؍ جزء من رقم الآیۃ ۲۷۔ [2] سورۃ العلق؍ الآیۃ ۶۔۷۔ [3] ملاحظہ ہو: اس کتاب کے صفحات ۱۵۵۔ ۱۵۶۔