کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 156
ب: لوگوں کے پاس موجود مال میں ان کی حیثیت [جانشین] کی ہے۔ [اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس حقیقت کو واضح طور پر بیان فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِینَ فِیْہِ}[1] [اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کے ساتھ ایمان لے آؤ اور اس چیز میں سے خرچ کرو، جس میں انہوں نے تمہیں جانشین بنایا۔] ج: اس نیابت میں بندوں کا امتحان ہے، کہ وہ عطا کردہ چیزوں کے استعمال میں بطورِ جانشین حقیقی مالک سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں یا نہیں۔ امام مسلم نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ، وَإِنَّ اللّٰہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْہَا، فَیَنْظُرُ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۔‘‘[2] [بلاشبہ دنیا شیریں (اور) سرسبز و شاداب ہے اور یقینا تمہیں اللہ تعالیٰ اس میں جانشین بناتے ہیں اور دیکھتے ہیں، کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟] ۲: مال و اسباب کی فراوانی کا سرکشی کے لیے وجہ جواز نہ ہونا: لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت مال و اسباب کی فراوانی میسر آنے پر طغیانی اور سرکشی پر اُتر آتی ہے۔ رب خالق عزوجل نے خود فرمایا: [1] سورۃ الحدید / جزء من رقم الآیۃ ۷۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب أکثر أہل الجنۃ الفقراء،…، جزء من رقم الحدیث ۹۹۔ (۲۷۴۲)، ۴/۲۰۹۸۔