کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 155
علاوہ کسی کی (اپنے آقا کی نافرمانی کرتے ہوئے) اطاعت کرے۔‘‘ ۲: شیخ ابن عاشور نے تحریر کیا ہے: ’’{لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} تَقْرِیْرٌ لِّانْفِرَادِہٖ بِالْإِلٰہِیَّۃِ ، إِذْ جَمِیْعُ الْمَوْجُوْدَاتِ مَخْلُوْقَاتُہٗ۔‘‘[1] ’’[لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ] ان کے بحیثیت معبود یکتا اور منفرد ہونے کی تاکید ہے، کیونکہ تمام موجود چیزیں تو ان کی مخلوق ہیں۔‘‘ و: جملے کے دیگر پانچ فوائد: اللہ تعالیٰ کے الوہیت و عبودیت کے تنہا مستحق ہونے پر دلالت کرنے کے علاوہ اس جملے کے دیگر فوائد بھی ہیں۔ انہی میں سے پانچ درجِ ذیل ہیں: ۱: بندے کا اپنے پاس موجود چیزوں کا حقیقی مالک نہ ہونا: ہر چیز کے حقیقی مالک صرف اللہ عزوجل ہیں۔ کچھ چیزیں اور مال ، آزمائش و امتحان کے لیے بندے کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے۔ قرآن و سنت کی متعدد نصوص اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں۔ انہی میں سے تین ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ا: اللہ تعالیٰ نے آزادی حاصل کرنے کے خواہاں غلاموں سے تعاون کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: {وَّآتُوْہُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْٓ آتَاکُمْ}[2] [اور اللہ تعالیٰ کے مال سے ، جو انہوں نے تمہیں دیا ہے، انہیں دو۔] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے پاس موجود مال کو [مَالُ اللّٰہِ] [اللہ تعالیٰ کا مال] کا نام دیا۔ [1] تفسیر التحریر والتنویر ۳/۲۰۔ [2] سورۃ النور/ جزء من رقم الآیۃ ۳۳۔