کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 154
کہ مالک کو چھوڑ کر مملوک کی عبادت کی جائے، یا کسی مملوک کو عبودیت میں ان کا شریک ٹھہرایا جائے۔ مزید برآں اللہ مالک جل جلالہ نے ان دونوں صورتوں سے قطعی طور پر منع بھی کیا ہوا ہے۔ دو مفسرین کے اقوال: ۱: امام طبری لکھتے ہیں: ’’وَإِنَّمَا یَعْنِيْ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ لَا تَنبَغِي الْعِبَادَۃُ لِشَيْئٍ سِوَاہُ، لِأَنَّ الْمَمْلُوْکَ طَوْعُ یَدِ مَالِکِہٖ، وَلَیْسَ لَہٗ خِدْمَۃُ غَیْرِہٖٓ إِلَّا بِأَمْرِہٖ۔ یَقُوْلُ: ’’فَجَمِیْعُ مَا فِيْ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ مِلْکِيْ وَخَلْقِيْ، فَلَا يَنبَغِي أَنْ یُّعْبَدَ أَحَدٌ مِّنْ خَلْقِيْ مِنْ غَیْرِيْ وَأَنَا مَالِکُہٗ، لِأَنَّہٗ لَا یَنْبَغِيْ لِلْعَبْدِ أَنْ یَّعْبُدَ غَیْرَ مَالِکِہٖ، وَلَا یُطِیْعُ سِوَی مَوْلَاہُ۔‘‘[1] ’’بلاشبہ اس سے اُن [یعنی اللہ تعالیٰ] کا مقصود یہ ہے، کہ اُن کے سوا کسی بھی چیز کی عبادت کرنا مناسب نہیں، کیونکہ مملوک اپنے مالک کے زیرِدست ہوتا ہے اسے اُن کے حکم کے بغیر کسی کی خدمت کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ (گویا کہ) فرماتے ہیں: جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ میری ملکیت اور میری مخلوق ہے، اس لیے یہ مناسب نہیں، کہ میرے سوا میری مخلوق میں سے کسی کی عبادت کی جائے اور میں اس (عبادت کرنے والے) کا مالک ہوں، کیونکہ بندے کے لیے مناسب ہی نہیں، کہ وہ اپنے مالک کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرے اور وہ اپنے آقا کے [1] تفسیر الطبري ۵/۳۹۵۔