کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 153
{وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسٰؤُاْ بِمَا عَمِلُوْا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی}[1] [اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تاکہ وہ بُرا عمل کرنے والوں کو اُن کے عمل کا بدلہ دیں اور اچھا عمل کرنے والوں کو اچھا صلہ دیں۔] اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا کسی بات کو صرف ایک دفعہ ہی فرمانا، اُسے تسلیم کرنے اور خود کو اُس کے مطابق عمل کی خاطر تیار کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔ پھر اُس بات کی اہمیت و عظمت کس قدر زیادہ ہوگی، جسے انہوں نے اپنے کلامِ عالی میں متعدد مرتبہ ارشاد فرمایا ہو؟ ہ: جملے کا ماقبل سے تعلق: یہ جملہ آیت الکرسی کے ابتدائی جملے [اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ] میں بیان کردہ حقیقت، کہ [ہر قسم کی الوہیت و عبادت کے اللہ تعالیٰ تنہا اور منفرد حق دار ہیں]، کی تاکید کرتا ہے۔ یہ تاکید درج ذیل دو پہلوؤں سے ہے: ۱: کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور مملوک کو یہ حق نہیں، کہ وہ اپنے آقا و مالک کے سوا کسی اور کی عبادت کرے یا کسی اور کو اپنی عبادت میں اپنے مالک کا شریک بنائے۔ علاوہ ازیں آقا و مالک نے تو اپنے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے اور اس میں ان کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے سے روکا ہے۔ ۲: جب کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے، تو یہ کیونکر مناسب ہوسکتا ہے، [1] سورۃ النجم / الآیۃ ۳۱۔