کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 149
’’اور [مَا] ہر موجود چیز پر مشتمل ہے۔‘‘ مَا] دو دفعہ: [اَلسَّمٰوٰاتِ ] سے پہلے اور پھر [الْأَرْض] سے پہلے استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ تکرار [عموم] کے معنٰی کی تاکید کی خاطر کی گئی ہے۔ علامہ ابوحیان اندلسی نے تحریر کیا ہے: ’’وَکَرَّرَ [مَا] لِلتَّوْکِیْدِ۔‘‘[1] ’’[مَا]کا تکرار تاکید کے لیے کیا گیا ہے۔‘‘ شیخ ابن عاشور رقم طراز ہیں: ’’فَقَدْ دَلَّتِ الْجُمْلَۃُ عَلٰی عَمُوْمِ الْمَوْجُوْدَاتِ بِالْمَوْصُوْلِ وَصِلَتِہٖ۔ وَإِذَا ثَبَتَ مِلْکُہٗ لِلْعَمُوْمِ ثَبَتَ أَنَّہٗ لَا یَشُذُّ عَنْ مِلْکِہٖ مَوْجُوْدٌ ، فَحَصَلَ مَعنَی الْحَصْرِ ، وَلٰکِنَّہُ زَادَہٗ تَأْکِیْدًا بِتَقْدِیْمِ الْمُسْنَدِ… أَيْ لَا لِغَیْرِہٖ… لِإِفَادَۃِ الرَّدِّ عَلٰی أَصْنَافِ الْمُشْرِکِیْنَ مِنَ الصَّابِئَۃِ عَبَدۃِ الْکَوَاکِبِ کَالسُّرْیَانِ وَالْیُوْنَانِ، وَمِنْ مُشْرِکِيْ الْعَرَبِ ، لِأَنَّ مُجَرَّدَ حَصُوْلِ مَعْنَی الْحَصْرِ بِالْعَمُوْمِ لَا یَکْفِي فِي الدَّلَالَۃِ عَلٰٓی إِبْطَالِ الْعَقَآئِدِ الضَّآلَّۃِ۔ فَہٰذِہِ الْجُمْلَۃُ أَفَادَتْ تَعْلِیْمَ التَّوْحِیْدِ بِعُمُوْمِہَا، وَأَفَادَتْ إِبْطَالَ عَقَآئِدِ أَہْلِ الشِّرْکِ بِخَصُوْصِیَّۃِ الْقَصْرِ، وَہٰذِہٖ بَلَاغَۃٌ مُّعْجِزَۃٌ۔‘‘ [2] ’’پس (یہ)جملہ اپنے موصول [مَا] اور اس کے [صلہ] کے ساتھ تمام [1] البحر المحیط ۱؍۲۸۸۔ [2] تفسیر التحریر والتنویر ۳؍۲۰۔ نیز دیکھئے: تفسیر آیۃ الکرسي ص ۱۲۔