کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 148
’’ملکیت، تخلیق اور بندگی کے اعتبار سے (سب کچھ ان ہی کے لیے تو ہے)۔‘‘ ۶: شیخ ابوبکر جزائری لکھتے ہیں: ’’خَلْقًا وَّمِلْکًا وَّتَصَرُّفًا۔‘‘[1] ’’تخلیق، ملکیت اور انتظام و انصرام کے اعتبار سے (سب کچھ ان ہی کے لیے ہے)۔‘‘ ب: خبر [لَہُ] کے تقدیم کی حکمت: یہ جملہ اسمیہ ہے اور اس میں [مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ] مبتدا اور [لَہٗ] اس کی خبر ہے۔ عام قاعدے کے مطابق مبتدا کو پہلے اور خبر کو بعد میں آنا چاہیے، لیکن اس جملے میں خبر پہلے آئی ہے۔ جملے میں تقدیم و تاخیر [حصر] کا فائدہ دیتا ہے، جس کی بنا پر اس جملے میں دو معانی ہیں: پہلا معنٰی: آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا۔ دوسرا معنٰی: آسمانوں اور زمین میں موجود تمام چیزوں کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی ملکیت نہ ہونا۔ ج: اسم موصول [مَا] اور اس کے تکرار کی فائدہ: مَا فِیْ السَّمٰوٰت) میں اسم موصول [مَا] ذکر کیا گیا ہے، تاکہ وہ آسمانوں میں موجود ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹ لے، کیونکہ [مَا] عموم کے صیغوں میں سے ہے۔ اور یہی بات (وَمَا فِیْ الْاَرْضِ) میں ہے۔ اس بارے میں علامہ ابوحیان اندلسی لکھتے ہیں: ’’وَمَا تَشْمَلُ کُلَّ مَوْجَوْدٍ۔‘‘[2] [1] أیسر التفاسیر ۱/۲۰۳۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر آیۃ الکرسي ص ۱۲۔ [2] البحر المحیط ۱/۲۸۸۔ نیز دیکھئے: تفسیر آیۃ الکرسي ص ۱۱۔