کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 145
’’اس کا معنیٰ یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ سوتے نہیں اور بلاشبہ ان کے حق میں سونا محال ہے، کیونکہ [نیند] عقل پر پردہ اور غلبہ ہے ، (کہ)، اس کے ساتھ احساس ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بلند و بالا ہیں۔ ان کے بارے میں ایسا ہونا ناممکن ہے۔‘‘ و: جملے کا ماقبل سے تعلق: اس جملے میں اللہ تعالیٰ کے [اَلْقَیُّوْمُ] ہونے کی تاکید ہے۔ دو مفسرین کے اقوال: ۱: علامہ ابوالبرکات نسفی رقم طراز ہیں: وَہُوَ تَأْکِیْدٌ لِّلْقَیُّوْمِ، لِأَنَّ مَنْ جَازَ عَلَیْہِ ذٰلِکَ، اِسْتَحَالَ أَنْ یَّکُوْنَ قَیُّوْمًا۔[1] وہ (یعنی یہ جملہ) [اَلْقَیُّوْمُ] کی تاکید ہے، کیونکہ جس پر [اونگھ] اور [نیند] طاری ہو، اس کا [اَلْقَیُّوْمُ]ہونا محال ہے۔ ۲: حافظ ابن کثیر نے تحریر کیا ہے: ’’ وَمِنْ تَمَامِ الْقَیُّوْمِیَّۃِ أَ نَّہٗ لَا یَعْتَرِیْہِ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ۔‘‘[2] ’’قیومیت کے مکمل ہونے میں سے یہ ہے، کہ [اَلْقَیُّوْمُ] پر نہ [اونگھ] طاری ہو اور نہ [نیند]۔‘‘  [1] ملاحظہ ہو: تفسیر النسفي ۱/۱۲۸؛ نیز ملاحظہ ہو: الکشاف ۱/۳۸۴۔ [2] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۱۔ نیز ملاحظہ ہو: وتفسیر القاسمي ۳/۳۱۸؛ وأیسر التفاسیر ۱/۲۰۳۔