کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 142
قَدْ تَتَقَدَّمُ بَیْنَ یَدَیِ النَّوْمِ ، وَقَدْ یَہْجِمُ النَّوْمُ دُوْنَ تَقَدُّمِ السَّنَۃِ۔‘‘ [1] ’’(اللہ تعالیٰ نے) [اونگھ] کو پہلے ذکر کیا، تاکہ [نیند] کی دو دفعہ، یعنی اللزوم اور المطابقہ، دونوں طریقوں سے نفی ہوجائے، کیونکہ بسااوقات [اونگھ] [نیند] سے پہلے آتی ہے اور بسااوقات [اونگھ] کے آنے سے پیشتر ہی [نیند]غلبہ پالیتی آتی ہے۔‘‘ د: لفظ [لا] کے تکرار کی حکمت اس سلسلے میں حضراتِ مفسرین کی بیان کردہ دو حکمتیں درجِ ذیل ہیں: ا: [اونگھ] اور [نیند] دونوں کی ہر حالت میں نفی کی خاطر: علامہ ابوحیان اندلسی رقم طراز ہیں: ’’وَفَآئِدَۃُ تَکْرَارِ {لَا} فِيْ قَوْلِہٖ: (وَلَا نَوْمٌ): اِنْتِفَآؤُہُمَا عَلٰی کُلِّ حَالٍ ، إِذْ لَوْ أُسْقِطَتْ (لَا) لَاحْتَمَلَ اِنْتِفَآؤُہُمَا بِقَیْدِ الْاِجْتِمَاعِ ، تَقُوْلُ: ’’ مَا قَامَ زَیْدٌ وَّعَمْروٌ، بَلْ أَحَدُہُمَا۔‘‘ وَلَا یُقَالُ: ’’مَا قَامَ زَیْدٌ وَلَا عَمْرٌو، بَلْ أَحَدُھُمَا۔‘‘[2] ’’(وَّ لَا نَوْمٌ) میں [لا] کے تکرار کا فائدہ ان دونوں (اونگھ اور نیند) کی ہر حالت میں نفی ہے۔ اگر دوسرا لفظ [لا] نہ ہوتا، تو اس بات کا احتمال ہوسکتا تھا، کہ ان دونوں کی حالتِ اجتماع میں نفی ہے (یعنی اونگھ اور نیند، دونوں اللہ تعالیٰ پر نہیں آسکتے، البتہ صرف ایک کے آنے کی نفی نہیں تھی)، جیسے ہم کہتے ہیں: [1] التقیید الکبیر في تفسیر کتاب اللّٰہ المجید ۱؍۳۲۷۔ [2] البحر المحیط ۲؍۲۸۸۔