کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 141
اپنے آپ سے دور کرسکتا ہے، لیکن نیند کو دور کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا، اسی لیے نیند اس پر غالب آجاتی ہے، لیکن اونگھ اس پر غالب نہیں ہوپاتی۔ اگر آیت میں اونگھ کی نفی پر اکتفا کیا جاتا، تو نیند کی نفی کا فائدہ حاصل نہ ہوپاتا۔ اسی طرح اگر صرف نیند کی نفی کی جاتی، تو اس سے اونگھ کی نفی حاصل نہ ہوتی، کیونکہ کتنے ہی اونگھنے والے سونے والے نہیں ہوتے۔ ج: [اونگھ] کے [نیند] سے پہلے ذکر کرنے کی حکمت اس بارے میں حضراتِ مفسرین کی بیان کردہ دو حکمتیں درجِ ذیل ہیں: ۱: [اونگھ] [نیند] سے پہلے آتی ہے۔ اسی صورتِ حال کے پیش نظر اونگھ کو پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ اس بارے میں قاضی ابوسعود نے تحریر کیا ہے: ’’إِنَّمَا تَأْخِیْرُ النَّوْمِ لِلْمُحَافَظَۃِ عَلٰی تَرْتِیْبِ الْوَجُوْدِ الْخارِجِيِّ۔‘‘ [1] ’’وجودِ خارجی کی ترتیب کی حفاظت کے پیشِ نظر نیند کو بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔‘‘ بالفاظِ دیگر چونکہ [نیند] [اونگھ] کے بعد آتی ہے، اس لیے اسے بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔ ۲: [نیند] کی نفی کی تاکید کے لیے پہلے [اونگھ] کی نفی کا ذکر کیا گیا ہے۔ علامہ احمد بن محمد بسیلی تونسی لکھتے ہیں: ’’قَدَّمَ السَّنَۃَ لِیَنْفِيَ النَّوْمَ مَرَّتَیْنِ: بِاللَّزُوْمِ وَالْمُطَابَقَۃِ، لِأَنَّہَا [1] تفسیر أبي السعود ۱؍ ۲۴۸۔ نیز دیکھئے: تفسیر البیضاوي ۱؍۱۳۴۔