کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 138
امام طبری کا بیان: حضرتِ امام رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ فَتَأْوِیْلُ الْکَلَامِ إِذْ کَانَ الْأَمْرُ عَلٰی مَا وَصَفْنَا (اَللّٰہُ لَآ إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ) الّذِيْ لَا یَمُوْتُ (اَلْقَیُّوْمُ) عَلٰی کُلِّ مَا ہُوَ دُوْنَہٗ بِالرِّزْقِ وَالْکَلَآئَ ۃِ وَالتَّدْبِیْرِ وَالتَّصْرِیْفِ مِنْ حَالٍ إِلٰی حَالٍ۔ (لَا تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ) لَا یُغَیِّرُہٗ مَا یُغَیِّرُ غَیْرَہٗ ، وَلَا یُزِیْلُہٗ عَمَّا لَمْ یَزَلْ عَلَیْہِ تَنَقَّلُ الْأَحْوَالِ وَتَصْرِیْفُ اللَّیَالِيْ وَالْأَیَّامِ ، بَلْ ہُوَ الدَّآئِمُ عَلٰی حَالٍ، وَالْقَیُّوْمُ عَلٰی جَمِیْعِ الْأَنَامِ۔ لَوْ نَامَ کَانَ مَغْلُوْبًا مَقْہُوْرًا ، لِأَنَّ النَّوْمَ غَالِبُ النَّآئِمِ قَاہِرُہٗ۔ وَلَوَ وَسَنَ لَکَانَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْأَرْضُ وَمَا فِیْہِمَا دَکًّا ، لِأَنَّ قِیَامَ جَمِیْعِ ذٰلِکَ بِتَدْبِیرْہٖ وَقُدْرَتِہٖ ، وَالنَّوْمُ شَاغِلُ الْمُدَبِّرِ عَنِ التَّدْبِیْرِ، وَالنُّعَاسُ مَانِعُ الْمُقَدِّرِ عَنِ التَّقْدِیْرِ بَوَسْنِہٖ۔‘‘[1] ’’اگر آیت شریفہ کی تفسیر ویسے ہی ہے، جیسے ہم نے بیان کی ہے، کہ اللہ تعالیٰ:ان کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایسے زندہ ہیں، کہ ان پر کبھی موت طاری نہیں ہوتی، ساری مخلوقات کا رزق، حفاظت، تدبیر اور ایک حالت سے دوسری حالت میں لے جانا، ان ہی کے ساتھ ہے۔ (لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ) [تو اس جملے کی تفسیر یہ ہوگی، کہ جو کوئی ان کے سوا کسی اور میں تبدیلی لاتا ہے، ان میں تبدیلی نہیں لا سکتا۔ حالات کے نشیب و فراز اور شب و روز کا آنا جانا، ان میں کوئی تغیر پیدا نہیں کرتا، بلکہ وہ دائمی طور پر اپنی ہی حالت میں ہیں اور ساری مخلوقات کو قائم رکھے ہوئے [1] تفسیر الطبري ۵/۳۹۳۔