کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 137
-۳- {لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ} کی تفسیر ا: جملے کا معنٰی ب: [اونگھ] کی نفی کے بعد [نیند] کی نفی کی حکمت ج: [نیند] سے پہلے [اونگھ] کا ذکر کرنے کی حکمت د: لفظ [لا] کے تکرار کی حکمت ہ: اللہ تعالیٰ سے [نیند کی نفی] کے متعلق ایک حدیث و: جملے کا ماقبل سے تعلق ا: جملے کا معنیٰ [سِنَۃٌ] سے مراد اونگھ اور [نَوْمٌ] سے مراد نیند ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: ’’[سِنَۃٌ] سے مراد اونگھ اور [نَوْمٌ] سے مراد نَوْمٌ [یعنی نیند] ہی ہے۔‘‘[1] اس جملے سے مراد یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ پر مخلوق سے متعلق کسی قسم کی غفلت، بھول اور لاپروائی کی کیفیت طاری نہیں ہوتی، ہر جان جو کچھ کمارہی ہے، وہ اس کے اوپر نگہبان اور نگران ہیں، ہر چیز پر گواہ ہیں۔ کچھ بھی ان سے اوجھل نہیں اور (دوسروں سے) پوشیدہ کوئی (چیز) ان سے مخفی نہیں۔[2] [1] بحوالہ: تفسیر الطبري ۵/۳۹۱۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۰۔ ۳۳۱۔ نیز دیکھئے: المحرر الوجیز ۲/۲۷۴۔ ۲۷۵؛ وتفسیر البغوي ۱/۲۳۸۔۲۳۹ ؛ وتفسیر القاسمي ۳/۳۱۸۔