کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 136
[بلاشبہ سب صفاتِ افعال [الْقَیُّوْمُ] میں داخل ہیں، کیونکہ [الْقَیُّوْمُ] وہ ہیں، جو خود قائم ہیں اور اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہیں۔ انہوں نے ساری موجودات کو قائم کیا، انہیں وجود میں لائے، انہیں باقی رکھا اور انہیں اپنے وجود و بقا کے لیے جو کچھ درکار ہے، وہ انہیں مہیا فرمایا۔] ط: [الْقَیُّوْمُ] کا پہلے جملے سے تعلق: اس مقام پر [اَلْقَیُّوْمُ] کے ذکر میں (اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ) [1]کی دوسری دلیل ہے۔ وجۂ استدلال یہ ہے، کہ جب وہ ساری مخلوق کے رزق، حفاظت اور نگہبانی کا بندوبست، کسی شریک، ساجھی، ہمسر، نظیر اور مثیل کے بغیر کرتے ہیں، تو کسی بھی قسم کی عبادت میں کیسے کوئی ان کا شریک یا حصے دار بن سکتا ہے؟  [1] [یعنی کہ اللّٰه تعالیٰ ہر قسم کی الوہیت اور ہر نوع کی عبادت کے تنہا اور منفرد حق دار ہیں۔]