کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 133
[’’القَیِّمُ کا معنیٰ: مخلوق کے معاملات کو قائم کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے اور سارے جہاں کا اس کی تمام حالتوں میں نظم و نسق سنبھالنے والے۔‘‘] امام قتادہ [اَلْقِیَامُ] کی شرح میں رقم طراز ہیں: ’’ اَلْقَآئِمُ بِنَفْسِہٖ بِتَدْبِیْرِ خَلْقِہٖ، اَلْمُقِیْمُ لِغَیْرِہٖ۔‘‘ [1] [از خود اپنی مخلوق کی تدبیر فرمانے والے ، اپنے سوا دیگر چیزوں کو قائم رکھنے والے۔] ان نصوص کے حوالے سے چار باتیں: ۱: کائنات کی ہر چیز کا قیام صرف اللہ جل جلالہ کے ساتھ ہے۔ کمزور سے کمزور اور طاقت ور ترین، سب چیزوں کا وجود و بقا ان ہی کے فضل و کرم سے ہے۔ جب وہ کمزور ترین چیز، جیسے چڑیا کو، باقی رکھیں، تو اُسے کوئی گرا نہیں سکتا۔ اگر وہ طاقت ور ترین چیز، جیسے آسمان و زمین، کو ہٹا اور مٹادیں، تو کوئی انہیں سہارا نہیں دے سکتا۔ ۲: اس حقیقت میں انتہائی درجے کے ناتواں اور ضعیف شخص کے لیے حقیقی اطمینان اور تسلی ہے، کہ جب تیرا معاملہ رب قیوم کے ساتھ درست ہے، تو ساری کائنات مل کر بھی تجھے گرا نہیں سکتی۔ مزید برآں اس میں زور آور ترین شخص کے لیے بھی تنبیہ ہے، کہ غرور و تکبر نہ کر۔ تو اور تیرا سارا زور اور قوت ان کے حکم سے ہے ۔ وہ جب چاہیں، تیرا زور و قوت ہی نہیں، بلکہ تیرا نام و نشان بھی ، مٹ جائے۔ [1] منقول از: فتح الباري ۳؍۴۔