کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 132
ان کے لیے کشتی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں، جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں، تو انہیں غرق کردیں، پھر ان کی فریاد کے لیے کوئی پہنچنے والا نہیں اور نہ وہ بچائے جائیں گے۔ مگر ہماری طرف سے رحمت اور ایک وقت تک فائدہ پہنچانے کی وجہ سے۔] ۶: آسمانوں، زمین اور ان میں موجود ہر چیز کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہونا: امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’کَانَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم یَدْعُوْ مِنَ اللَّیْلِ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو (حسبِ ذیل) دُعا کیا کرتے تھے: ’’اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ۔ لَکَ الْحَمْدُ۔ أَنْتَ قَیِّمُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ… الحدیث[1] [اے اللہ! آپ ہی کے لیے تمام تعریف ہے۔ آپ ہی آسمانوں اور زمین کے رب ہیں۔ آپ ہی کے لیے تمام تعریف ہے۔ آپ ہی آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان میں ہیں، کے قیم ہیں… الحدیث ایک دوسری روایت میں ہے: ’’ قِیَامُ السَّمٰوٰتِ ۔‘‘ [2] ایک اور روایت میں ہے: ’’ قَیُّوْمُ ۔‘‘ [3] شیخ عبداللہ الغنیمان لکھتے ہیں: ’’وَالْقَیِّمُ مَعْنَاہُ: اَلْقَآئِمُ بِأُمُوْرِ الْخَلْقِ ، وَمُدَبِّرُہُمْ ، وَمُدَبِّرُ الْعَالَمِ فِيْ جَمِیْعِ أَحْوَالِہٖ۔‘‘ [4] [1] صحیح البخاري، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ: {وَہُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمَوٰاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ} ، جزء من رقم الحدیث ۷۳۸۵، ۱۳؍۳۷۱۔ [2] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۳؍۴۔ [3] ملاحظہ ہو: شرح کتاب التوحید ۱؍۱۴۸۔ [4] المرجع السابق ۱؍۱۴۸۔