کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 131
[یقینا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے تھام رکھا ہے۔ اگر وہ دونوں گرجائیں، تو ان (یعنی اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی انہیں تھامنے والا نہیں۔ بلاشبہ وہ بہت بردبار اور بڑے معاف فرمانے والے ہیں۔] ۵: ا: شمس و قمر اور لیل و نہار کا نظامِ ربانی کا پابند ہونا: ب: کشتی اور اس جیسی دیگر چیزوں کا حکمِ الٰہی سے سواری کے کام آنا: آیاتِ شریفہ: {وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیمِ۔ لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ۔ وَاٰیَۃٌ لَّہُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَہُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ۔ وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ۔ وَاِِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَـلَا صَرِیخَ لَہُمْ وَلَا ہُمْ یُنقَذُوْنَ۔ اِِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِِلٰی حِیْنٍ}[1]م [اور سورج اپنے ایک مقرر راستے پر چل رہا ہے وہ بڑے زبردست اور خوب جاننے والے (اللہ کریم) کا نظام ہے اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں، (جن سے وہ گزرتا ہے،) یہاں تک کہ وہ (آخر میں) کھجور کی قدیم پتلی شاخ کی مانند ہوجاتا ہے۔ آفتاب کے لیے یہ ممکن نہیں، کہ وہ ماہتاب کو جالے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے، کہ ہم نے ان کی نسل کو ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا اور ہم نے [1] سورۃ یٰسٓ / الآیات ۳۸۔۴۴۔