کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 130
سکیڑتے ہوئے نہیں دیکھا ہے؟ انہیں رحمن کے سوا کوئی اور تھامے ہوئے نہیں ہوتا۔ بے شک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والے ہیں۔] ۲: پرندوں ہی کے بارے میں مزید فرمایا: {اَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآئِ مَا یُمْسِکُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ}[1] [کیا انہوں نے فضائے آسمانی میں مسخر کیے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی انہیں (گرنے سے) روکے نہیں رکھتا۔ بے شک اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا نشانیاں ہیں۔] ۳: آسمان اور زمین کا حکمِ الٰہی سے استقرار: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآئُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآاَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ }[2] [اور ان کی نشانیوں میں سے ہے، کہ آسمان و زمین ان کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمہیں زمین سے نکلنے کے لیے پکاریں گے، تو تم سب یک بارگی نکل پڑو گے۔] ۴: ان کے سوا کسی اور کا آسمانوں اور زمین کا تھامنے والا نہ ہو نا: ارشادِ باری تعالیٰ: {اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا وَ لَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْم بَعْدِہٖ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا}[3] [1] سورۃ النحل / الآیۃ ۷۹۔ [2] سورۃ الروم / الآیۃ ۲۵۔ [3] سورۃ فاطر / الآیۃ ۴۱۔