کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 129
کی محتاج ہیں۔ [اَلْقَیُّوْمُ] کی صفت والا ہونا بہت بڑی شان و عظمت والی بات ہے۔ اس طرح اس صفت والے ( اللہ تعالیٰ) بھی بہت بڑی شان والے ہیں۔] ۴: حافظ ابن کثیر رقم طراز ہیں: اَلْقَیِّمُ لِغَیْرِہٖ ، فَجَمِیْعُ الْمُوْجُوْدَاتِ مُفْتَقِرَۃٌ إِلَیْہِ، وَہُوَ غَنِيٌّ عَنْہَا، وَلَا قِوَامَ لَہَا بِدُوْنِ أَمْرِہٖ۔[1] اپنے سوا دیگر سب (چیزوں) کو قائم رکھنے والے، اسی لیے سب موجود (چیزیں)ان کی محتاج ہیں اور وہ اُن سے بے نیاز ہیں۔ ان کے حکم کے بغیر ان (سب چیزوں) کا قیام نہیں (یعنی نہ تو ازخود وجود میں آسکتی ہیں اور نہ ہی وجود میں آنے کے بعد اپنے تئیں باقی رکھ سکتی ہیں)۔ ط: [تمام مخلوقات کے اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ موجود ہونے] کے متعلق چھ نصوص: قرآن و سنّت کی متعدد نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں، کہ کائنات کی تمام چیزوں کا وجود، بقا اور حفاظت حکمِ الٰہی ہی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر ان کا کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی بارے میں چھ نصوص ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ا: پرندوں کا فضا میں حکمِ الٰہی سے ہونا: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَوَلَمْ یَرَوْا اِِلَی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ صَآفَّاتٍ وَّیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُہُنَّ اِِلَّا الرَّحْمٰنُ اِِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍم بَصِیْرٌ}[2] [کیا انہوں نے اپنے اُوپر اُڑتے ہوئیپرندوں کو پَر پھیلائے ہوئے اور [1] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۰۔ نیز دیکھئے: أیسر التفاسیر ۱/۲۰۳۔ [2] سورۃ الملک / الآیۃ ۱۹۔