کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 127
چار علماء کے بیانات: ۱: امام طبری لکھتے ہیں: ’’ارشادِ تعالیٰ [القَیُّوْمُ] لفظ [قِیَام] سے [فَیْعُوْلٌ] (کا وزن) ہے اور اس کا اصلی لفظ [اَلْقَیْوُوْمُ] ہے۔‘‘ [1] امام طبری مزید لکھتے ہیں: ’’ارشادِ تعالیٰ [القَیُّوْمُ] کا معنٰی: ’’اَلْقَائِمُ بِرِزْقِ مَا خَلَقَ وَحِفْظِہٖ۔‘‘[2] [اپنی مخلوق کو رزق دینے اور اس کی حفاظت کا بندوبست فرمانے والے ہیں۔] امام طبری نے امام ربیع سے نقل کیا ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’قَیِّمُ کُلِّ شَيْئٍ، یَکْلَؤُہٗ، وَیَرْزُقُہٗ، وَیَحْفَظُہٗ۔‘‘[3] [ہر چیز کا نظم و نسق چلانے والے، کہ وہ اس کی دیکھ بھال کرتے، اسے رزق دیتے اور اس کی حفاظت کرتے ہیں۔] ۲: علامہ ابوحیان اندلسی رقم طراز ہیں: [القَیُّوْمُ] [فَیْعُوْل] کے وزن پر ہے۔ اس کا اصلی لفظ [قَیْوُوْم] ہے، (جس میں دو حروف [یاء] اور [واؤ] جمع ہوئے ہیں اور ان میں سے پہلے [حرف یاء] پر [سکون] ہے، اس لیے (حرف) [واو] کو [یاء] میں تبدیل کرکے (پہلے حرف یاء) کو اس میں مدغم کردیا گیا۔‘‘[4] [1] تفسیر الطبري ۵/۳۸۸۔ [2] المرجع السابق ۵؍۳۸۸۔ [3] المرجع السابق ۵/۳۸۸۔ [4] البحر المحیط ۲/۲۸۷۔ نیز دیکھئے: تفسیر المحرّر الوجیز ۲/۲۷۴؛ وتفسیر القرطبي ۳/۲۷۲؛ وفتح القدیر ۱/۴۱۰۔