کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 126
لے لیا۔ (اس کے بعد) میں نے سب لوگوں کو اُسی کی تلاوت کرتے ہوئے سنا: عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’وَاللّٰہِ! مَا ہُوَ إِلَّآ أَنْ سَمِعْتُ أَبَابَکْرٍ… رضی اللّٰه عنہ … تَلَاہَا، فَعَقِرْتُ، حَتّٰی مَا تُقِلُّنِيْ رِجْلَايَ ، وَ حَتّٰیٓ أَہْوَیْتُ إِلَی الْأَرْضِ حِیْنَ سَمِعْتُہٗ تَلَاہَا ، عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَدْ مَاتَ۔‘‘[1] ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! ابوبکر… رضی اللہ عنہ … کو اس کی تلاوت کرتے ہوئے سُن کر میں اس قدر حیرت زدہ ہوا، کہ میرے قدموں میں میرے جسم کو اٹھانے کی سکت نہ رہی اور یہاں تک، کہ جب میں نے انہیں اُسے پڑھتے ہوئے سنا، تو میں زمین پر گر پڑا۔ مجھے معلوم ہوگیا، کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یقینا فوت ہوچکے ہیں۔‘‘ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے، کہ پہلے اور بعد، ہر قسم کے انقطاع کے بغیر کامل زندگی، صرف اللہ خالق جل جلالہ کی ہے ۔ ان کے علاوہ کسی کی بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اس قسم کی تنہا، منفرد اور یکتا زندگی کا ہونا، اس بات کے دلائل میں سے ایک ہے، کہ وہ ہر قسم کی عبادت کے حق دار ہونے میں بھی وحدہٗ لاشریک ہیں۔ ح: [القَیُّوْمُ] کا وزن اور معنیٰ: [القَیُّوْمُ] لفظ [قِیَام] سے [فَیْعُوْلُ] کا وزن ہے اور اس کا معنیٰ …واللہ تعالیٰ أعلم… یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ ساری مخلوقات کی تخلیق، رزق، دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والے ہیں۔ ہر چیز کا وجود، بقا اور تدبیر انہی کے دستِ قدرت سے ہے۔ [1] صحیح البخاري، کتاب المغازي، باب مرض النبي صلي الله عليه وسلم و وفاتہ ، جزء من رقم الحدیث ۴۴۵۴، ۸/۱۴۵۔