کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 125
طرف متوجہ ہوگئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ أَمَّا بَعْدُ،مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا … صلي اللّٰه عليه وسلم … فَإِنَّ مُحَمَّدًا ۔ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔ قَدْ مَاتَ۔ وَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَيٌّ لَّا یَمُوْتُ۔ قَالَ تَعالٰی: {وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ … إِلیٰ قَوْلِہٖ … الشّٰکِرِیْنَ} ‘‘[1] ’’امابعد! آپ لوگوں میں سے جو کوئی محمد… صلی اللہ علیہ وسلم … کی عبادت کیا کرتا تھا، تو (جان لے، کہ) بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقینا فوت ہوچکے ہیں اور آپ لوگوں میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا، تو (سن لے کہ) یقینا اللہ تعالیٰ ازلی ابدی زندگی والے، (کبھی) نہ فوت ہونے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: [ترجمہ: اور محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ صرف ایک رسول ہیں۔ یقینا ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں ––ارشادِ باری تعالیٰ–– شکر کرنے والے… تک] انہوں (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما ) نے بیان کیا: ’’وَاللّٰہِ! لَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ یَعْلَمُوْآ أَنَّ اللّٰہَ أَنْزَلَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ حَتّٰی تَلَاہَآ أَبُوبَکْرٍ… رضی اللّٰه عنہ …، فَتَلَقَّاہَا مِنْہُ النَّاسُ کُلُّہُمْ۔ فَمَآ أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا یَتْلُوْہَا۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! یقینا (ایسے معلوم ہوتا تھا،) کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس آیت کی تلاوت کرنے تک لوگوں کو یہ علم ہی نہیں تھا، کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نازل کیا ہوا ہے۔ سب لوگوں نے ان (یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے اُسے [1] سورۃ آل عمران/ الآیۃ ۱۴۴۔