کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 124
ہیں۔ اس استدلال کی تفصیل یہ ہے، کہ عبادت کا حق دار وہ ہے، جس کی [زندگی ازلی اور ابدی] ہو اور ایسی زندگی والے صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہیں۔ ان کے سوا کوئی اور ایسا نہیں، لہٰذا عبادت کا مستحق بھی ان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں۔ اسی بارے میں شیخ ابن عاشور لکھتے ہیں: ’’وَالْمَقْصُوْدُ إِثْبَاتُ الْحَیَاۃِ، وَإِبْطَالُ اِسْتِحقَاقِ آلِہَۃِ الْمُشْرِکِیْنَ وَصْفَ الْإِلٰہِیَّۃِ، لِانْتِفَآئِ الْحَیَاۃِ عَنْہُمْ، کَمَا قَالَ إِبْرَاہِیْمُ علیہ السلام : {یٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ}‘‘۔ [1] ’’مقصود (اللہ تعالیٰ کے لیے) زندگی کا ثابت کرنا اور مشرکوں کے معبودوں سے الوہیت کی نفی کرنا ہے، کہ وہ (ازلی اور ابدی) زندگی والے نہیں، جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: [ترجمہ: اے میرے ابا! آپ اس کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے؟‘‘] خطبۂ صدیقی: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر اپنے خطبے میں [ازلی ابدی زندگی] اور [عبادت کے استحقاق] کے باہمی تعلق کو خوب اچھی طرح واضح کیا۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے: ’’بلاشبہ ابوبکر۔ رضی اللہ عنہ ۔ تشریف لائے اور (تب) عمر۔ رضی اللہ عنہ ۔ لوگوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ’’اے عمر۔ رضی اللہ عنہ ۔ بیٹھ جاؤ۔‘‘ عمر۔ رضی اللہ عنہ ۔ نے بیٹھنے سے انکار کیا۔ لوگوں نے عمر۔ رضی اللہ عنہ ۔ کو چھوڑا اور ان کی [1] تفسیر التحریر والتنویر ۳؍۱۷۔