کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 123
’’یَا مُحَمَّدُ۔ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔ ! عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّکَ مَیِّتٌ۔ وَأَحْبِبْ مَنْ أَحْبَبْتَ ، فَإِنَّکَ مُفَارِقُہٗ۔ وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّکَ مَجْزِيٌّم بِہٖ۔‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’یَا مُحَمَّدُ صلي اللّٰه عليه وسلم! شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِیَامُ اللَّیْلِ، وَعِزُّہُ اسْتِغْنَاؤُہٗ عَنِ النَّاسِ۔‘‘[1] [’’اے محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔! آپ جتنی دیر پسند کریں، زندہ رہ لیجیے، (لیکن) آپ نے یقینا مرنا ہے اور آپ جس سے چاہیں، محبت کرلیجیے، بلاشبہ آپ نے اُس سے جدا ہونا ہے اور آپ جو پسند کریں، عمل کرلیجیے، بلاشک آپ کو اس کی جزا دی جائے گی۔‘‘ پھر انہوں نے کہا: ’’اے محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔! مومن کے لیے (باعثِ) شرف رات کا قیام (یعنی نمازِ تہجد) ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔‘‘] ز: [اَلْحَیُّ] کا پہلے جملے سے تعلق: پہلے جملے [اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ] میں اس بات کا اعلان ہے، کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عبادت کے تنہا مستحق ہیں اور اس کے دلائل میں سے ایک یہ ہے، کہ وہ [اَلْحَیّ] [1] المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، ۴/۳۲۵۔ امام حاکم نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴/۳۲۵؛ والتلخیص ۴/۳۲۵)۔