کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 122
[اور محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ صرف ایک رسول ہیں۔ یقینا ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں، تو کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا قتل کردیے جائیں، تو تم لوگ الٹے پاؤں (دین سے) پھر جاؤ گے اور جو (دین سے) الٹے پاؤں پھر جائے، تو وہ اللہ تعالیٰ کا ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں کرے گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیں گے۔] ۲: ارشادِ باری تعالیٰ: {وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَأَفَإِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ۔ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً وَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ}[1] [اور ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کے لیے دوام نہیں رکھا۔ کیا اگر آپ فوت ہوجائیں گے، تو وہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟ ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تمہیں بطورِ آزمائش بُرے اور بھلے حالات میں ڈالتے ہیں اور ہماری ہی جانب تمہارا لوٹ کر آنا ہے۔] ۳: ارشادِ باری تعالیٰ: {اِِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ}[2] [بلاشبہ آپ فوت ہوجائیں گے اور یقینا وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔] ۴: امام حاکم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’جبریل۔ علیہ السلام ۔ تشریف لائے اور فرمایا: [1] سورۃ الأنبیآء / الآیتان ۳۴۔۳۵۔ [2] سورۃ الزمر / الآیۃ ۳۰۔