کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 119
ا: {أَنْتَ الْأَوَّلُ} میں مبتدا {أَنْتَ} اور خبر {اَ لْأَوَّلُ} دونوں کے معرفہ ہونے کی وجہ سے یہ جملہ حصر پر دلالت کرتا ہے۔ اس طرح جملے کا معنیٰ ہو گا: [آپ ہی سب سے پہلے ہیں]۔ اسی طرح {وَأَنْتَ الْآخِرُ} کا معنیٰ ہو گا: [ اور آپ ہی سب سے آخر ہیں]۔ [1] ii: {أَنْتَ الْأَوَّلُ} فرمانے کے بعد {فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَيْئٌ} [سو آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں]، کے ساتھ پہلے جملے میں موجود حصر، کہ [اللہ تعالیٰ کے پہلے کوئی بھی موجود نہیں] کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح {وَأَنْتَ الْآخِرُ} فرمانے کے بعد {فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَيْئٌ} [پس آپ کے بعد کوئی چیز نہیں]، کے ساتھ سابقہ جملے میں موجود حصر، کہ [اللہ تعالیٰ کے بعد کوئی بھی نہیں] کی تاکید کی گئی ہے۔ وَاللّٰہُ تَعَالیٰ أَعْلَمُ۔ ہ: اللہ تعالیٰ کے سوا سب کا [مرنے والا] ہونا: اللہ تعالیٰ کے سوا ازلی، ابدی، سرمدی اور دائمی زندگی کسی کی بھی نہیں۔ ان کے علاوہ ہر موجود چیز، پہلے معدوم تھی۔ اسی طرح ان کے سوا ہر موجود چیز، فنا اور ہلاک ہونے والی ہے اور ہر زندہ، مرنے والا ہے۔ پانچ نصوص: قرآن و سنّت میں اس حقیقت کو متعدد بار بیان کیا گیا ہے۔ اس بارے میں [1] ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۹؍۲۴۳۔