کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 118
[وہی سب سے پہلے ہیں اور سب سے پیچھے ہیں۔] ۲: امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رو ایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’ (حضرت) فاطمہ رضی اللہ عنہا خادم طلب کرنے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمایا: تم کہو: ’’ اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم! رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ!… [اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب! عرشِ عظیم کے رب! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! (اسی دُعا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ’’ أَنْتَ الْأَوَّلُ ، فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَيْئٌ۔‘‘ ’’وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَيْئٌ … الحدیث۔[1] [آپ ہی سب سے پہلے ہیں، سو آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور آپ ہی سب سے آخر ہیں، پس آپ کے بعد کوئی چیز نہیں]… الحدیث حدیث شریف کے حوالے سے دو باتیں: [1] جامع الترمذي ، أبواب الدعوات، باب ، جزء من رقم الحدیث ۳۷۱۲، ۹؍ ۳۱۸۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۳؍۱۶۴)۔ امام حاکم نے بھی اسے الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے اور اسے [صحیحین کی شرط پر صحیح] کہا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المستدرک علی الصحیحین ۳؍ ۱۵۷ ؛ والتلخیص ۳؍۱۵۷)۔ نوٹ:… مکمل حدیث اور اس کا ترجمہ راقم السطور کی کتاب اذکار نافعہ ص ۱۵۳ میں دیکھا جا سکتا ہے۔