کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 116
فَکَمَالُ الْأَوْصَافِ فِي [اَلْحَيِّ] ، وَکَمَالُ الْأَفْعَالِ فِيْ [اَلْقَیُّوْمِ] ، لِأَنَّ مَعْنی [الْحَيِّ] ذُوالْحَیَاۃِ الْکَامِلَۃِ۔ وَیَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ [اَلْ] الْمُفِیْدَۃُ لِلْاِسْتِغْرَاقِ ، وَکَمَالُ الْحَیَاۃِ مِنْ حَیْثُ الْوَجُوْدِ وَالْعَدَمِ ، وَمِنْ حَیْثُ الْکَمَالِ وَالنَّقْصِ۔‘‘[1] ’’[اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ]: اللہ تعالیٰ کے اسمائے (مبارکہ) میں سے (دو) نام ہیں اور وہ دونوں اپنے اندر (تمام) اوصاف اور افعال کو سموئے ہوئے ہیں۔ کمالِ اوصاف [اَلْحَيُّ] میں اور کمالِ افعال [اَلْقَیُّوْمُ] میں ہیں، کیونکہ [اَلْحَيُّ] کا معنی کامل زندگی والے اور [اَلْ] استغراق کا فائدہ دینے والا اس پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زندگی کا کمال [وجود و عدم] اور [کمال و نقص] دونوں پہلوؤں سے ہے (یعنی وہ ہمیشہ سے موجود ہیں اور ہمیشہ موجود رہیں گے اور ان کی زندگی ہر قسم کے نقص، عیب، خلل اور کوتاہی سے یکسر خالی ہے)۔‘‘ د: [اَلْحَيُّ] کے معنی والی دو نصوص: ا: ارشادِ باری تعالیٰ: {ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ} [2] (وہی سب سے پہلے ہیں اور سب سے آخر ہیں۔) دو مفسرین کے اقوال: i: علامہ بغوی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: [1] تفسیر آیۃ الکرسي ص ۷۔ [2] سورۃ الحدید؍ جزء من الآیۃ ۳۔