کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 113
۴: امام بغوی نے قلم بند کیا ہے: ’’اَلْبَاقِيْ الدَّائِمُ عَلَی الْأَبَدِ۔‘‘[1] ’’وہ ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔‘‘ ۵: امام ابن قیم لکھتے ہیں: ’’وَلَہُ الْحَیَاۃُ کَمَالُھَا فَلِأَجْلِ ذَا ما لِلْمَمَاِت عَلَیْہِ مِنْ سُلْطَانِ‘‘[2] [اُن ہی کے لیے [زندگی] اپنی انتہائی شکل میں ہے، اسی لیے ان پر موت کا بالکل غلبہ نہیں]۔ ۶: حافظ ابن کثیر نے تحریر کیا ہے: ’’اَلْحيُّ فِيْ نَفْسِہٖ الَّذِيْ لَا یَمُوْتُ أَ بَدًا۔‘‘[3] ’’وہ فی نفسہٖ زندہ ہیں، جو کبھی بھی فوت نہیں ہوں گے۔‘‘ ۷: قاضی ابوسعود نے لکھا ہے: ’’اَلْبَاقِيْ الَّذِيْ لَا سَبِیْلَ عَلَیْہِ لِلْمَوْتِ وَالْفَنَآئِ۔‘‘[4] ’’باقی رہنے والے، کہ ان پر موت و فنا نہیں۔‘‘ ب: وصفِ الٰہی [اَلْحَيُّ] والی دیگر آیات میں سے چار: ۱: {الٓمَّٓ۔ اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}[5] [1] تفسیر البغوي ۱/۲۳۸۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر النسفي ۱/۱۲۸۔ [2] القصیدۃ النونیۃ، رقم البیت ۵۳۸، ۱/ ۳۳۹۔ [3] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۰۔ [4] تفسیر أبي السعود ۱/۲۴۷۔ نیز ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۱/۴۱۰؛ وتفسیر القاسمي ۳/۳۱۸؛ وأیسر التفاسیر ۱/۲۰۲۔ [5] سورۃ آل عمران / الآیتان ۱۔۲۔