کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 112
سات علماء کے بیانات: ا: امام قتادہ نے بیان کیا: ’’اَلْحَيُّ الَّذِيْ لَا یَمُوْتُ۔‘‘[1] ’’[الحي] وہ ذات، جو فوت نہیں ہوتی۔‘‘ ۲: امام سَدِی نے بیان کیا: ’’اَلْمُرَادُ بِالْحَیِّ اَلْبَاقِيْ۔‘‘[2] ’’[اَلْحَيُّ] سے مراد باقی رہنے والے۔‘‘ ۳: امام طبری رقم طراز ہیں: ’’ فَإِنَّہٗ یَعْنِيْ الَّذِيْ لَہٗ الْحَیَاۃُ الدَّآئِمَۃُ ، وَالْبَقَآئُ الَّذِيْ لَآ أَوَّلَ لَہٗ بِحَدٍّ ، وَلَآ آخِرَہٗ لَہٗ بِأَمَدٍ، إِذْ کُلُّ مَا سِوَاہُ ، فَإِنَّہٗ وَ إِنْ کَانَ حَیًّا فَلِحَیَاتِہٖ أَوَّلٌ مَحْدُوْدٌ ، وَ آخِرُ مَمْدُوْدٌ، یَنْقَطِعُ بِانْقِطَاعِ أَمَدِہَا ، وَیَنْقَضِيْ بِقَضَآئِ غَایَتِہَا۔‘‘ [3] ’’بلاشبہ [اَلْحَيُّ] سے مراد وہ ذات، کہ ان ہی کے لیے دائمی زندگی اور ایسی بقا ہے، کہ نہ تو اس کے اول کے لیے کوئی حد ہے اور نہ آخر کے لیے کوئی انتہا، کیونکہ ان کے علاوہ ہر چیز، اگرچہ وہ زندہ ہو، اس کی زندگی کے اول کے لیے حد ہے اور آخر کے لیے انتہا ہے۔وہ اپنی مدت کے ختم ہونے سے ختم ہوجاتی ہے اور اپنے وقت کے پورے ہونے پر ناپید ہوجاتی ہے۔‘‘ [1] بحوالہ: تفسیر القرطبي ۳/۲۷۱۔ [2] المرجع السابق ۳/۲۷۱۔ [3] تفسیر الطبري ۵/۳۸۶۔۳۸۷۔ نیز ملاحظہ ہو: البحر المحیط ۲/۲۸۷۔