کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 109
وَالْإِقْرَارُ بِمَا جَائَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ۔‘‘ [1] ’’اس (یعنی دینِ اسلام)کا ستون، جس کے بغیر اس کی کوئی بات درست قرار نہیْں پاتی ، تو وہ ( اس بات کی) گواہی دینا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جو کچھ وہ (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کی جانب سے لائے ہیں، اس کا اقرار کرنا۔‘‘ ۲: ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کی رستم کو دعوتِ توحید: رستم ہی کی فرمائش پر حضرت سعد نے اس کے بعد حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہما کو اس کی جانب روانہ کیا۔ رستم اُن سے کہنے لگا: ’’ مَا جَائَ بِکُمْ؟‘‘ ’’تمہیں کون سی چیز لائی ہے؟‘‘ (یعنی تمہاری آمد کا مقصد کیا ہے؟) ربعی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’اَللّٰہُ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَائَ مِنْ عِبَادَۃِ الْعِبَادِ إِلٰی عِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَمِنْ ضِیْقِ الدُّنْیَا إِلٰی سَعَتِہَا، وَمِنْ جَوْرِ الْأَدْیَانِ إِلٰی عَدْلِ الْإِسْلَامِ۔‘‘ [2] ’’اللہ تعالیٰ ہی نے ہمیں بھیجا ہے، تاکہ ہم، جسے وہ چاہیں، اُس کو بندوں کی عبودیت سے ، اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف نکال دیں، اور دنیا کی تنگی سے اس کی وسعت کی جانب اور ادیان کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف (نکال لے جائیں)۔‘‘ [1] البدایۃ والنہایۃ ۹؍۶۲۱۔ [2] المرجع السابق ۹؍۶۲۱۔۶۲۲۔