کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 108
ف: حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا دعوتِ توحید کے لیے اہتمام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم جہاں بھی جاتے، دعوتِ توحید کا غیر معمولی اہتمام کرتے۔اس سلسلے میں ذیل میں تین مثالیں ملاحظہ فرمایئے: ا: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی رستم کو دعوتِ توحید: معرکہء قادسیہ[1] شروع ہونے سے پہلے ایرانی سپہ سالار رستم نے اسلامی لشکر کے امیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ایک عاقل و عالم شخص بھیجنے کے لیے پیغام ارسال کیا، تاکہ وہ اس سے کچھ باتوں کے بارے میں دریافت کر سکے۔ حضرت سعد نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ جب مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے رُوبرو دینِ حق (یعنی اسلام) کا ذکر کیا، تو رستم نے پوچھا: ’’ فَمَا ہُوَ؟ ‘‘ ’’پس وہ کیا ہے؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ أَمَّا عَمُوْدُہُ الَّذِيْ لَا یَصْلُحُ شَيْئٌ مِنْہُ إِلَّا بِہٖ ، فَشَہَادَۃُ أَنْ: [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلي اللّٰه عليه وسلم رَّسُوْلُ اللّٰہِ]۔ [1] (معرکہء قادسیہ): یہ معرکہ ایرانیوں کے ساتھ ہوا۔ مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ تھے اور ایرانیوں کا قائد رستم تھا۔ دورانِ معرکہ رستم اور اس کے کم و بیش بیس ہزار لشکری مارے گئے اور باقی فوج نے مدائن کی طرف راہِ فرار لی۔ علامہ خلیفہ بن خیاط کی رائے میں یہ معرکہ ۱۵ ہجری میں اور استاذ محمود شاکر کی رائے میں ۱۴ ہجری میں ہوا۔ (ملاحظہ ہو:تاریخ خلیفہ بن خیاط ص ۱۲۹۔۱۳۲؛ والتاریخ الإسلامي (الخلفاء الراشدون والعہد الأموي) ۳؍۱۷۳۔۱۷۷)۔