کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 107
’’بے شک آپ اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہیں، سو آپ نے سب سے پہلے انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دینی ہے۔ پس جب وہ اسے پہچان لیں (یعنی تسلیم کرلیں)، تو پھر انہیں خبر دیجئے، کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں… الحدیث۔ ایک دوسری روایت میں ہے: ’’فَإِذَا جِئْتَہُمْ فَادْعُہُمْ إِلٰٓی أَنْ یَّشْہَدُوْٓا أَنْ لَّآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔ الحدیث[1] ’’پس جب آپ ان کے پاس پہنچیں، تو انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دیجیے، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یقینا محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘‘…الحدیث گفتگو کا خلاصہ یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے آیت الکرسی کے اولین جملے [اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ] کے ساتھ تمام انبیائے سابقین علیہم السلام اور خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ ان تمام کو، سب سے پہلے، اسی بات کی لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا گیا اور انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو خوب نبھایا اور دعوتِ توحید دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ جَزَاہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی جَمِیْعًا خَیْرَا الْجَزَائِ۔ اللہ کریم ہم ناکاروں کو بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تادم واپسیں دعوتِ توحید کی خاطر مخلصانہ اور بھرپور جدوجہد کی توفیق عطا فرمائیں۔ إِنَّہُ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔ [1] صحیح البخاري، کتاب المغازي، باب بعث أبي موسٰی ومعاذ رضی اللّٰه عنہما إلی الیمن قبل حجۃ الوداع، جزء من رقم الحدیث ۴۳۴۷، ۸/۶۴۔