کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 106
اما بعد، پس یقینا میں تمہیں دعوتِ اسلام کے ساتھ دعوت دیتا ہوں۔ مسلمان ہوجاؤ (دنیوی و اخروی ذلّت و عذاب سے) بچ جاؤ گے، اللہ تعالیٰ تمہیں دُہرا اجر دیں گے۔ اگر تم نے اعراض کیا، تو تم پر کسانوں کا (بھی) گناہ ہے۔ اور [اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف ، جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے، کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ان کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر، آپس میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ اگر وہ مُنہ پھیرلیں، تو آپ کہہ دیجیے، کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔] ۵: یمنی اہلِ کتاب کے لیے توحید کے ساتھ آغازِ دعوت کا حکم: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ فرمایا، تو انہیں وہاں موجود اہلِ کتاب کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دینے کا حکم دیا۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، (کہ) وہ بیان کرتے ہیں: ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو اہلِ یمن کی طرف مبعوث کیا، تو ان سے فرمایا: ’’إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلٰی قَوْمٍ مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ، فَلْیَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوْہُمْ إِلٰی أَنْ یُّوَحِّدُوْا اللّٰہ تَعَالٰی۔ فَإِذَا عَرَفُوْا ذٰلِکَ فَأَخْبِرْہِمْ أَنَّ اللّٰہَ فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِيْ یَوْمِہِمْ وَلَیْلَتِہِمْ…۔‘‘ الحدیث[1] [1] صحیح البخاري، کتاب التوحید، باب ما جاء في دعاء النبي صلي الله عليه وسلم أمتہ إلی توحید اللّٰہ تبارک وتعالٰی، جزء من رقم الحدیث ۷۳۷۲، ۱۳/۳۴۷۔