کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 102
دی، (کہ): ’’جب ابوطالب کی وفات کا وقت (قریب) آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں ابوجہل بن ہشام اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو (بھی) پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے کہا: ’’یَا عَمِّ! قُلْ [لَآ إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ]، کَلِمَۃً أَشْہَدْ لَکَ بِہَا عِنْدَ اللّٰہِ۔‘‘ ’’اے میرے چچا! [لَآ إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ]کہیے، (یہ ایسا کلمہ ہے)، کہ اس کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کے لیے (مسلمان ہونے کی) گواہی دوں گا۔‘‘ ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا: ’’اے ابوطالب! کیا تم عبد المطلب کے دین سے مُنہ موڑ لو گے؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن پر اُسے (یعنی کلمۂ توحید ) پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ ابوطالب نے ان کے ساتھ آخری بات یہ کہی: ’’وہ عبد المطلب کے دین پر ہیں۔‘‘ اور انہوں نے [لَآ إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ]کہنے سے انکار کیا… الحدیث[1] ۳: ارادۂ قتل کے ساتھ آنے والے مشرک کو: امام بخاری نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: [1] صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب إذا قال المشرک عند الموت: ’’لآ إلٰہ إلَّا اللّٰہ‘‘، جزء من رقم الحدیث ۱۳۶۰، ۳/۲۲۲۔