کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 101
۱: مقامِ منیٰ میں لوگوں کے خیموں میں: امام حاکم نے حضرت ربیعہ بن عباد دؤلی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) وہ بیان کرتے ہیں: ’’رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِمِنٰی فِيْ مَنَازِلِہِمْ، قَبْلَ أَنْ یُّہَاجِرَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، یَقُوْلُ: ’’یٰآیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَعْبُدُوْہُ، وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا۔‘‘ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، ہجرت کرنے سے پہلے ،منیٰ میں اپنے خیموں میں دیکھا، (کہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ’’اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں، کہ تم ان کی عبادت کرو اور ان کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔‘‘ انہوں (ربیعہ رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک شخص کہہ رہا تھا: ’’یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ ہٰذَا یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَتْرُکُوْا دِیْنَ آبَآئِکُمْ۔‘‘ ’’اے لوگو! بلاشبہ یہ تمہیں اپنے باپ دادا کا دین چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے۔‘‘ میں نے اس (یعنی پیچھے چلنے والے) شخص کے بارے میں پوچھا، (تو) کہا گیا: ’’(وہ) ابولہب (ہے)۔‘‘ [1] ۲: بوقتِ وفات چچا ابو طالب کو: امام بخاری نے حضرت مسیَّب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے خبر [1] المستدرک علی الصحیحین، کتاب الإیمان، ۱/۱۵۔ امام حاکم نے اسے [صحیحین کی شرط پر صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱/۱۵؛ والتلخیص ۱/ ۱۴)۔