کتاب: آیت الکرسی کی فضیلت اور تفسیر - صفحہ 100
ع: دعوتِ توحید کے لیے اہتمامِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم :iاللہ تعالیٰ نے [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] کی حیثیت و اہمیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تاکید کے ساتھ بیان فرمایا۔ باری تعالیٰ نے خطا ب فرمایا: {فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ}[1] [پس جان لیجیے، کہ بے شک حقیقت یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔] ii:اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب لوگوں کے رُوبرو بھی اسی اساس کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ ارشادِ تعالیٰ ہے: {قُلْ یٰٓا أَ یُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ}[2] [کہہ دیجیے اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ وہ (اللہ تعالیٰ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف ان کی ہے۔ ان کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتے اور مارتے ہیں۔] سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مثالیں: حکمِ الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصل، اساس اور بنیاد کا خوب خوب اعلان کیا۔ اسلامی ریاست کی تشکیل سے پہلے اور بعد، اعزہ و اقارب اور دشمنوں کو، براہِ راست اور بالواسطہ، غرضیکہ امکانی حد تک ہر وقت، ہر شخص اور ہر طریقے سے توحید کی دعوت دینے کا حق ادا کر دیا۔ ذیل میں اس سلسلے میں پانچ واقعات بطورِ مثال ملاحظہ فرمایئے: [1] سورۃ محمد صلي الله عليه وسلم /جزء من الآیۃ ۱۹۔ [2] سورۃ الأعراف / جزء من الآیۃ ۱۵۸۔