کتاب: آفات نظر اور ان کا علاج - صفحہ 89
بھی کیا جاتا ہے اس لئے نظر کے لگنے کا انکار بہر نوع غلط ہے۔ نظر بد کا علاج جب معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص کی نظر لگی ہے تو اسے کہا جائے کہ وہ کسی بر تن میں وضو کرے۔اس کا یہ مستعمل پانی متاثرہ شخص کے سراور پشت پر پچھلی جانب سے بہا دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے شفا دے دیتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بن سھل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ میرے والد سھل بن حنیف (جن کا رنگ سفید اور جسم بہت خوبصورت تھا)نے مدینہ طیبہ سے باہر خرار نامی وادی میں غسل کرنے کے لئے قمیض اتاری تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ بن ربیعہ نے کہا میں نے اتنا خوبصورت جسم تو کبھی نہیں دیکھا،یہ کہنے کی دیر تھی کہ حضرت سھل رضی اللہ عنہ کو بخار ہو نے لگا اور اس کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع د ی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ کس کی نظر لگی ہے؟لوگوں نے کہا عامر رضی اللہ عنہ بن ربیعہ کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور سخت ناراض ہوئے اور فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کوقتل کرنا چاہتا ہے تم نے اس کے لئے بر کت کی دعا کیوں نہ کی۔ جب بھی تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو دیکھے اور وہ اسے اچھا لگے تو اسے چاہیے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے۔(گویا اس بر کت کی دعا سے نظر کا اثر نہیں ہوگا)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر کو حکم دیا کہ وضو کرواپنا چہرا اور ہاتھ کہنیوں تک دھوؤ،اپنے گھٹنوں کو بھی اور چادر کا داہنا حصہ جو جسم سے ملا ہوا ہوتا ہے وہ دھوؤ،پھر حکم دیا کہ وہ پانی پچھلی جانب سے سھل رضی اللہ عنہ پر پھینک دو۔چنانچہ ایسا کیا گیا تو حضرت سھل رضی اللہ عنہ اسی وقت تندرست ہو گئے۔ یہ روایت موطاامام مالک کے علاوہ مسند امام احمد (ج۳ص۴۸۶،۴۸۷)ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں صحیح سند سے مروی ہے۔اور اس میں ’’داخلۃ ازارہ فی القدح‘‘ کے الفاظ ہیں کہ پیالے میں داخل ازار کو دھوئے۔ اس سے کیا مراد ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔امام ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے دائیں جانب کی طرف چادر کا وہ حصہ مراد ہے جو جسم کے ساتھ ملاہوا ہو(شرح السنہ :ج۱۲ ص۱۶۶)یعنی چادر یا شلوار کا وہ دائیاں