کتاب: آفات نظر اور ان کا علاج - صفحہ 77
کوئی ایسا کرتا ہے وہ گویا اس کے پاؤں کا ذکر کرتا ہے اور جو پاؤں کاذکر کرتا ہے وہ عادل نہیں۔(المناقب للموفق: ص۹۵ص۲) غیر مسلم عورتوں کے سامنے ستر کا اہتما م حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے یہی اصل بنیاد ہے کہ غیر مسلم عورتوں کے سامنے مسلمان عورت کو اپنے ستر کا اہتما م کرنا چاہیے۔ اسلام نے مسلمان عورتوں کو تو اس عادت سے روکا ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس کسی عورت کے جسم کا تذکرہ کریں مگر غیر مسلم عورتیں تو اس کی پابند نہیں۔اور قرآن مجید میں جن کے سامنے زینت کے اظہار کی اجازت دی ہے ان میں ایک ﴿اَوْنِسَائِ ھِنَّ﴾ یعنی اپنی عورتیں ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور امام مجاھد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں غیر مسلم عورتوں کے سامنے مسلمان عورتوں کو زینت کا اظہار درست نہیں۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کی بعض عورتیں غیر مسلم عورتوں کے ساتھ حماموں میں جانے لگی ہیں۔ حالانکہ جوعورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمانی رکھتی ہے اس کے لئے حلال نہیں کہ اس کے جسم پر اس کے اہل ملت کے سوا کسی اور کی نظر پڑ ے۔(بیہقی: ص۹۵ ج۷،ابن کثیر: ص۲۸۴ ج۳)بعض مفسرین نے اس سے مراد میل جول رکھنے والی عورتیں مراد لی ہیں۔تا ہم احتیاط اسی میں ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ مجذوم کو دیکھنا جذام بڑا خطرناک اور موذی مرض ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پناہ مانگی ہے۔بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف مسلسل دیکھنے سے منع فرمایا چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’لَا تُدِیْمُوا النَّظْرَإِلٰی مَجْذُوْمِیْنَ ‘‘(ابن ماجہ،مسند احمد وغیرہ ) ’’مجذوم پر اپنی نگاہ مرتکز نہ کرو‘‘ بلکہ( صحیح مسلم :ص۲۳۳ ج۲)میں ہے کہ بنو ثقیف کا وفد جب آپ کی خدمت