کتاب: آفات نظر اور ان کا علاج - صفحہ 57
عالم میں میرے آنسو بہہ نکلے ایک تو گھر سے دور سفر میں ہوں،دوسرااب شاید علم حاصل نہ کر سکوں۔اسی حالت میں مجھے نیند آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں مجھے آواز دی اور فرمایا:کیوں رو رہے ہو؟میں نے عرض کیا بینائی چلے جانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لکھنے سے محروم ہو گیا ہوں اورگھر سے بھی دور ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے قریب آؤ میں قریب ہوا توآپ نے اپنادست مبارک میری آنکھوں پر پھیرتے ہوئے کچھ دم کیا۔میں خواب سے بیدار ہوا تو بینائی بحال ہو چکی تھی،میں نے اسی وقت قلم وقرطاس سنبھالا اور احاد یث لکھنے لگا۔ (السیر ص:۱۸۲ ج۱۳،التہذیب :ص۳۸۶ ج۱،البدایۃ: ص۶۰ ج۱۱) سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ میری بینائی ضائع ہو گئی میں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے میری بینائی درست فرما دی۔( السیر: ص۲۴۶ ج۵)اور ادھر حضرت یعقوب علیہ السلام کی کھوئی ہوئی بینائی کاتذکرہ تو قرآن مجید میں موجود ہے۔اس لئے تاریخ کے اوراق میں بھی جو بعض حضرات کی بینائی درست ہونے کا ذکر ہے وہ بھی کوئی مستبعد بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔ امرد کو دیکھنا نظر کے فتنے سے بچنے کے لئے غیر محرم کو دیکھنا ہی ناجائز نہیں بلکہ امرد کودیکھنا بھی خطرہ سے خالی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے اس کی طرف دیکھنے سے بھی منع کیا ہے۔ ’’امرد‘‘اس خوبصور ت لڑکے کو کہتے ہیں جس کی ابھی داڑھی نہ نکلی ہو۔ عورت کی طرح امرد بھی فتنے کی جڑ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اس فتنے میں مبتلا ہوئی تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متلذذ بالمثل کے بارے میں فرمایا: فاعل و مفعول دونوں کو قتل کر دو۔( ترمذی،ابو داود،ابن حبان،مسند امام احمد)نیز آپ نے فرمایا یہ بدعمل کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو(مسند امام احمد)حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ لوطی کے قتل پر متفق ہیں،اکثر تابعین کرام کے علاوہ امام احمد،امام شافعی،امام اسحاق،امام اوزاعی وغیرھم رحمہم